بدھ، 13 مئی، 2015

کیڑا ۔ مختصر کہانی

ایک نوجوان ایک بزرگ کے پاس گیا اور عرض کی "بہت پریشان رہتا ہوں۔ زندگی سے اور تمام رشتے ناطوں سے کٹ گیا ہوں۔ طبیعت بیزار رہتی ہے۔ عقل، فہم اور دانش کی باتیں زہر لگتی ہیں۔ کوئی سنجیدہ و متین گفتگو کرے، اس کو کاٹ کھانے کو جی چاہتا ہے۔ زبان پر ہر وقت طعن و دُشنام و یاوہ گوئی و مغلظات ہیں۔ دعا کیجیے۔"
یہ سب سن کر بزرگ نے آنکھیں بند کیں، زیرِ لب کچھ پڑھا، ہلکا سے مسکرائے اور آنکھیں کھول کر نرمی سے اُسے مخاطب کر کے بولے۔ "بیٹا! آپ کسی اچھے سرجن کے پاس جا کر آپریشن کرواؤ، آپ کو تحریکِ انصاف کا کیڑا ہے۔"