جمعہ، 20 فروری، 2015

خواہش

حُسنِ ناتراشیدہ!
میری معمولی سی خواہش پوری کر دے
تُو میرے ساتھ اجنتا و ایلورا کی سیر کو چل
میں فقط اِک بار یہ دیکھنا چاہتا ہوں
وہ گوتم، وہ جاتک، وہ دیویوں کے مجسمے
جو فن کی معراج ہیں
جن کا ایک ایک عضو ہنرِ تراشیدگی کا اوجِ کمال ہے
جن کی سطوت کا احاطہ آج بھی ممکن نہیں
تیرے فطری حٌسنِ ناتراشیدہ کو دیکھتے ہی
تیرے حُسن کا کلمہ پڑھتے ہوئے
سجدوں میں گِر جاتے ہیں۔

بدھ، 11 فروری، 2015

دشمنِ جاں زندگی

زیست، حیات، جان اور زندگی کے سب استعارے
اس دشمنِ جاں کے سامنے بےمعنی ہیں
وہ روح کی لطافت سا پاکیزہ بدن
ارضی تشبیہات سے ماورا ہے
شاید اسی کو تخیل میں لا کر قدیم تہذیبوں نے
عصمت و عفت کی دیویاں بنا بنا پوجیں
قرونِ وُسطٰی کے سیاہ گھور اندھیروں نے
اسی نور کی آہٹ پہ پر سمیٹے
شاید اسی نازک بدن کی راحت کو
آدم کو آسائش و آرائش کی باتیں سوجھیں
زیست، حیات، زندگی اور جان کے سب استعارے
اس دشمنِ جاں کے سامنے ہیچ ہیں
وہ دشمنِ جاں، جو وجہء زندگی ہے
جو جانِ جاناں ہے، جو زندگی ہے