بدھ، 24 جولائی، 2024

کون آئے گا ہماری پکار پر؟



گھروں، مکانوں، پناہ گاہوں شاہراہوں یعنی قتل گاہوں
میں بہنے والے کشمیر و برما و غزہ کے لہو کی آنکھیں بھی جم کر پتھر ہو گئیں
اور کاگ انہیں کھا بھی چکے
مگر ہم اپنے ترانوں اور گانوں کی ہیجان آمیز دھنوں پر تھرکتے نازک بدنوں، بلوری جسموں اور مشکبار کاکلوں کے رقص دیکھنے میں منہمک رہے
اور رقصاں مورتوں کے قدموں کی تال پر اپنی بےسری آوازوں میں گنگناتے رہے
اور جن کے سموں سے چنگاریوں کو نکلنا تھا
اُن گھوڑوں کو ہم
میلوں اور ٹھیلوں میں ڈھولوں کی تھاپوں پر نچاتے رہے
لٹنے والے لٹتے رہے
مرنے والے مرتے رہے 
اور ہم کسی مسیحا کو بلاتے رہے
بھلا ہماری پکار پر کون آئے گا
اور کیوں آئے گا
ہماری اذاں اور ہے مجاہد کی اذاں اور

جمعرات، 22 جون، 2023

روایات کا تحفظ

وہ ہاسٹل میں اپنے کمرے کی بتیاں بجھا کر بیٹھا آواز بند کیے ایک انتہائی "رومانوی" فلم دیکھ رہا تھا۔ لیپ ٹاپ کی سکرین پر چلتے ہیجان خیز مناظر پر اس کی نظر چپکی ہوئی تھی، اس کی آنکھیں سرخ اور جذبات کی حدت سے اس کا چہرہ دہک رہا تھا۔ ایک ہاتھ ماؤس پر تھا اور دوسرا ہاتھ فلم کے ساتھ ساتھ تال میل میں حرکت میں تھا۔ منظر اپنے اختتام کے قریب تھا اور کلائمکس ہونے کو ہی تھا کہ اچانک دروازے پر ایک زوردار مسلسل دستک نے اسے چونکا دیا۔ اس نے گھبرا کر جلدی جلدی میں لیپ ٹاپ کا ڈھکن بند کیا، کپڑے درست کیے، چہرے اور آواز کو نارمل کرتے ہوئے پوچھا کہ کون ہے؟‍ 
بھائی، میں ہوں، جواب آیا۔ دستک دینے والا اس طلبہ تنظیم کا سیکرٹری تھا جس کا وہ صدر تھا۔
کیا ہوا؟ سب خیریت تو ہے؟ اتنی بوکھلاہٹ کس لیے ہے؟ اس نے پوچھا۔

بھائی، وہ کچھ لوگ مین لائبریری کے باہر دوسرے مذہب کا تہوار منا رہے ہیں؟ جواب ملا۔

کون ہیں یہ لوگ؟ 

اسی مذہب کے ہیں مگر ان کے ساتھ کچھ ہمارے مذہب کے لوگ بھی مل کر منا رہے ہیں۔

ہمممم۔ ایسا کرو لڑکوں کو اکٹھا کرو، ان کا علاج کرتے ہیں۔ یہ لوگ ہمارے ملک میں فحاشی اور بےحیائی کو فروغ دے رہے ہیں۔ انہیں طاقت سے روکنا پڑے گا۔ 

یہ کہہ کر اس نے دروازے کے پیچھے سے ہاکی اٹھائی اور تہوار منانے والوں کو روکنے کے لیے چل پڑا۔ وہ اپنی روایات کا تحفظ کرنا جانتا تھا۔

جمعہ، 27 نومبر، 2020

عمروعیار اور الزام جادوگر

افراسیاب اپنے تخت پر بہت پریشان بیٹھا تھا۔ اس کے پہلو میں ملکہ حیرت بھی حیرت کے عالم میں گم سم بیٹھی تھی۔ دربار میں مرگ کا سا عالم تھا۔ عمرو عیار کے ہاتھوں پےدرپے شکستوں اور بڑے بڑے نامی گرامی جادوگروں جن میں سامری جادوگر کا پوتا مصور جادوگر اور جمشید جادوگر کا نواسا خمار جادوگر بھی شامل تھے کی موت کے بعد افراسیاب اپنے ہوش و حواس کھو بیٹھا تھا۔ وہ اس حد تک پاگل ہو چکا تھا کہ اس نے اپنے وزیر باتدبیر باغبان جادوگر اور صرصر عیارہ کو بھی دھکے دیکر دربار سے نکلوا دیا تھا اور انکی واپسی کے لیے یہ شرط رکھی تھی کہ اگر عمرو عیار کا مستقل حل ڈھونڈے بغیر دربار میں واپس آئے تو افراسیاب انہیں خود اپنے ہاتھوں سے قتل کرے گا۔
دربار سے نکلنے کے بعد باغبان جادو اور صرصر عیارہ پریشان حال پھر رہے تھے۔ انہیں سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ عمرو عیار جیسی بلا سے وہ کیسے نمٹیں گے جس کے آگے شہنشاہِ طلسم تو کیا خداوند لقا باختری بھی بےبس ہے۔ اچانک صرصر عیارہ کو ایک خیال سوجھا اور وہ کہنے لگی کہ عمرو بھی انسان ہے تو کیوں نہ انسانوں کے درمیان جا کر کسی ایسے شخص کو ڈھونڈا جائے جو عمرو عیار ہی کی طرح مکار ہو۔ باغبان جادو کو بھی یہ خیال پسند آیا اور وہ دونوں فوراً جادو کے زور سے غائب ہو کر انسانی دنیا میں چلے آئے۔ یہاں انہوں نے لوگوں سے کسی ایسے شخص کے بارے میں پوچھنا شروع کیا جو عمرو ہی کی طرح عیار ہو اور دشمنوں کو زچ کر کے رکھتا ہو۔ ان کی بات سن کر ایک بوڑھے نے کہا کہ ایسا کوئی انسان نہیں لیکن ملک کے دارلحکومت کے دامنِ کوہ میں ایک جادوگر، جس کا نام الزام جادو ہے، نے اپنا طلسم بنایا ہوا ہے، وہ اتنا عیار مکار ہے کہ وہ عمرو کو ایسے شکست دے گا کہ عمرو کو نانی یاد آ جائے گی۔
اس بوڑھے سے راستہ پوچھنے کے بعد وہ اس طلسم کی طرف روانہ ہوئے۔ جادو کے زور پر انہوں نے گھنٹوں کا فاصلہ منٹوں میں طے کیا۔ ابھی وہ طلسم کی حدود سے کافی دور ہی تھے کہ اچانک ان کے کان تیز موسیقی سے پھٹنے لگے اور ساتھ ہی کوئی گلوکار اس جادوگر کی تعریف میں گیت گانے لگا، تیز موسیقی کے ساتھ اس گلوکار کی آواز یوں لگ رہی تھی جیسے وہ ماتم کر رہا ہو۔ گانے کے بول کچھ یوں تھے؛

جب لگائے گا الزام
وہ صبح سے لیکر شام
کرے گا سب کا جینا حرام

ابھی وہ دونوں اس موسیقی سے ہی پریشان تھے کہ اچانک کئی بھتنیاں اور بھتنے ان کے اردگرد ناچنے لگے۔ وہ ناچتے ہوئے ان دونوں کو گندی گندی گالیاں بھی دے رہے تھے اور ساتھ کہہ رہے تھے کہ تم دونوں بِک چکے ہو۔ تم دونوں ملکہ مہ جبین اور ملکہ بہار سے لفافے لیتے ہو۔ یہ سنتے ہی باغبان جادو اور صرصر عیارہ سٹپٹا کر رہ گئے۔ گالیاں اور طعنے سہتے، الم غلم موسیقی اور ماتم زدہ گلوکار کے گانے کو برداشت کرتے وہ طلسم کی حدود میں داخل ہوئے تو اچانک دروغۂ طلسم نمودار ہوا اور صرصر عیارہ کو گندے اشارے کرنے کے بعد بولا، شہنشاہ طلسم تک پہنچنے کا راستہ میرے کمرے سے ہو کر جاتا ہے۔ اس سے پہلے کہ صرصر کچھ کہتی باغبان جادو بولا، بسروچشم چلیے، میں آپ ہی کی وساطت سے شہنشاہِ طلسم سے مل لیتا ہوں، صرصر یہیں انتظار کر لیتی ہے۔ یہ سن کر دروغہ کھسیانا ہو گیا اور کہنے لگا کہ میں تم لوگوں کا امتحان لے رہا تھا کیونکہ شہنشاہ سے صرف وہی لوگ مل سکتے ہیں جو کردار کے مضبوط ہوں لیکن ایک بات یاد رکھنا، شہنشاہ الزام جادو بہت نازک طبع ہیں، ان سے بحث نہ کرنا اور ان کی ہاں میں ہاں ملانا تمہارا کام ہو جائے گا۔ یہ کہہ کر دروغہ انہیں لے کر دربار خاص کی طرف روانہ ہو گیا۔
یہ لوگ دربار میں داخل ہوئے تو کیا دیکھتے ہیں کہ ایک عجیب و غریب ہونق قسم کا بوڑھا جس کے چہرے پہ لعنت اور پھٹکار برس رہی ہے، اپنے چہرے پر مسلسل ٹیکے لگا رہا ہے اور اس نے اپنے پاس ہی تارکول کا ڈرم رکھا ہوا ہے اور ہر تھوڑی دیر بعد اپنا سر اس ڈرم میں ڈبو کر اپنے بال کالے کرتا ہے، پھر کاغذ پر کوئی سفید سا سفوف رکھ کر ناک کے ذریعے اندر کھینچتا اور پھر آئینہ اٹھا کر آئینے میں اپنی شکل دیکھ کر “ابھی تو میں جوان ہوں” گنگنانے لگتا ہے۔ کچھ دیر بعد وہ بوڑھا ان دونوں کی طرف متوجہ ہوا اور پوچھا کہ کس لیے آئے ہو۔ دونوں نے اپنی مشکل بیان کی۔ ان کی بات سن کر الزام جادو نے دروغۂ طلسم کی طرف اشارہ کیا۔ دروغۂ طلسم فوراً ان کو مخاطب کر کے کہنے لگا شہنشاہ پوچھ رہے ہیں کہ بھینٹ کے لیے کیا لائے ہو؟ باغبان جادو نے فوراً دل میں منتر پڑھ کر اپنے بھیروں سے معلوم کیا کہ الزام جادو کو کیا پسند ہے؟ بھیروں نے بتایا کہ الزام جادو ہر کس و ناکس سے بھینٹ میں چندہ اور مسلمانوں سے زکوٰۃ لیتا ہے۔ یہ اتنا مکار ہے کہ مسلمانوں کے درمیان مسلمان بن کر رہتا ہے مگر اپنی منافقت سے انہیں احساس بھی نہیں ہونے دیتا کہ یہ ان کی جڑیں کاٹ رہا ہے۔ بہت سے سادہ لوح مسلمان اس کے چنگل میں پھنس کر بھتنیاں اور بھتنے بن چکے ہیں۔ باغبان جادو نے بھیروں سے کہا کہ مجھے الزام جادو کی سب سے بڑی خواہش بتاؤ میں وہ پوری کرنے کی کوشش کرتا ہوں، شاید اسی طرح عمرو سے جان چھوٹ جائے۔ بھیروں نے عرض کی کہ الزام جادو کو ایک مخصوص کرسی چاہیے، اس کرسی کو پانے کے لیے یہ کسی بھی حد تک جا سکتا ہے۔ باغبان جادو نے منتر پڑھا تو اسے معلوم ہوا کہ یہ کرسی الزام جادو کو نہیں مل سکتی، کئی مسلمان بزرگوں نے دعا کر رکھی ہے کہ اس کرسی پر کوئی ایسا شخص نہ بیٹھے جس کی زبان کی گندگی سے کوئی بھی محفوظ نہ ہو۔ یہ کرسی مسلمان بزرگوں کی دعا کی بدولت صرف اس مسلمان ملک کے حکمران کے تصرف میں آ سکتی تھی۔ یہ جان کر باغبان بہت دکھی ہوا لیکن اس نے منتر پڑھ کر اس کرسی کی ایک نقل منگوا لی اور اس کرسی پر بیٹھنے والا شخص جس قسم کی شیروانی زیب تن کرتا ہے، ویسی ہی شیروانی بھی منگوا لی۔ یہ دونوں چیزیں دیکھ کر الزام جادو کی باچھیں کھل گئیں اور وہ فوراً چھلانگ مار کر کرسی پہ بیٹھ گیا اور الٹی شیروانی پہن کر کہنے لگا، تم نے میرا دل خوش کر دیا ہے، میں عمرو کا وہ حشر کروں گا کہ دنیا یاد کرے گی۔

ہفتہ، 18 اپریل، 2020

شادی ‏کے ‏بعد ‏کیا ‏ہوا ‏تھا۔ ‏ایک ‏ایسی ‏کہانی ‏جو ‏کسی ‏ڈائجسٹ ‏میں ‏نہیں ‏چھپ ‏سکتی۔

امامہ اور سالار نئے نئے اس شہر میں شفٹ ہوئے تھے۔ سالار کو اپنے ادارے کی وساطت سے شہر کے ایک پوش علاقے میں بنگلہ ملا، مگر امامہ نے کہا کہ ان پوش علاقوں میں کسی سے ملنا جلنا تو ہوتا نہیں، اس لیے وہ بور ہو جائے گی۔ سالار نے اسے سمجھانے کی بہت کوشش کی کہ اس مکان کا کرایہ نہیں ادا کرنا پڑے گا اور اگر کسی دوسری جگہ گھر لیا تو کرائے کا خرچہ جیب سے دینا پڑے گا، مگر وہ بیوی ہی کیا جو اپنی نہ منوائے۔ سو امامہ نے سر باندھ لیا، منہ سجا لیا اور سالار سے بات چیت بند کر دی۔ سالار نے منانے کی کوشش کی تو امامہ نے رونا شروع کر دیا۔ "میں تو آپ سے شادی کر کے پھنس گئی، اتنے اچھے اچھے رشتے آتے تھے میرے، مگر میری ہی مت ماری گئی تھی۔ جب سے شادی ہوئی ہے، میں نے تو اس گھر میں کوئی خوشی نہیں دیکھی۔ پہلے تمہاری ماں  اور بہن بھائیوں نے زندگی عذاب کیے رکھی، ان کی خدمتیں کر کر کے اپنی صحت تباہ کی اور اب تم یہاں لا کر مجھے اکیلا قید کر دینا چاہتے ہو‌۔" امامہ روتے ہوئے جو بولنا شروع ہوئی تو بولتی ہی چلی گئی۔ "مگر میری امی تو ہماری شادی سے پہلے ہی فوت ہو گئی تھیں اور میں اکلوتا ہوں۔" سالار کنفیوژ ہو کر بولا۔ "ہاں ہاں، اب تم میری چھوٹی چھوٹی باتیں پکڑو گے، اپنے ظلم نہیں دیکھو گے" امامہ بولی، "وہ جو تمہاری پھپھو اور خالہ ہیں، وہ کسی ساس سے کم ہیں اور اُن کے بچے، توبہ توبہ، ہزار نندوں اور دیوروں کے برابر ہیں۔" مگر پھپھو تو کبھی ہمارے گھر آئی ہی نہیں اور خالہ بھی صرف ہمارے ولیمے پر آئی تھیں اور دونوں کے بچوں سے ابھی تک تم ملی بھی نہیں" سالار ایک بار اختلاف کی جرأت کر بیٹھا۔ 

"ہاں ہاں، اپنے رشتے داروں کے دفاع کے لیے تو تم آگ میں بھی اتر جاؤ گے، مگر مجھ پر ظلم کرنے سے باز نہیں آؤ گے۔ اچھا بھلا میں نے عمیرہ سے کہا تھا، میری سالار سے شادی نہ کروانا، اگر وہ تھوڑی کوشش کرتی تو میری شادی جلال انصر سے ہو جاتی، سب کچھ عمیرہ کے ہاتھ میں تھا۔ مگر اسے تم ہیرو لگتے تھے، کہتی تھی سالار جیسا کوئی نہیں۔ میں نے اسے سمجھایا بھی تھا کہ سالار نہیں، جسی جیسا کوئی نہیں، مگر اس نے مجھے اس دوزخ میں پھنسا دیا۔" امامہ کہاں رکنے والی تھی۔ 

"اچھا بابا اچھا، میں آج ہی پراپرٹی ڈیلر سے کہہ دیتا ہوں، وہ تمہاری پسند کے مطابق مکان ڈھونڈ لے گا۔ تم جا کر دیکھ کر فائنل کر آنا۔" سالار نے ہار مانتے ہوئے کہا۔

"آپ کتنے اچھے ہیں ناں" امامہ اٹھلائی، "ٹھہریں میں آپ کے لیے چائے بنا کر لاتی ہوں"۔ یہ کہہ کر وہ اٹھی اور کچن میں آ گئی۔ چائے بناتے ہوئے اس نے امتل کو فون کیا اور خوشخبری سنائی۔ امتل نے سمجھانے کی کوشش کی تو اس نے یہ کہہ کر فون بند کر دیا، آپ اپنے رسالوں کی دنیا میں رہیں، آپ کو اصل دنیا کا کیا پتہ۔ اس کے بعد اس نے نمرہ، عنیزہ، رخسانہ، نگہت، فائزہ اور ثمرہ کو فون کیے اور سب کو بتایا کہ وہ بہت جلد نئے گھر میں شفٹ ہو جائیں گے۔ چائے بنا کر وہ کمرے میں لائی تو سالار سو چکا تھا، اس نے غصے سے چائے خود پی لی اور سونے کے لیے لیٹ گئی۔ وہ سالار کی غیر ذمہ داری کی وجہ سے اپنی خوشی خراب نہیں کرنا چاہتی تھی۔

اگلے ایک ماہ میں اس نے پراپرٹی ڈیلر کے ساتھ جا کر کئی گھر دیکھے مگر پراپرٹی ڈیلر اسے اس کی مرضی کے مطابق گھر نہیں دکھا رہا تھا۔ کہیں محلہ رش والا تھا اور کسی کالونی میں بالکل خاموشی۔ کسی گھر میں ٹائیلیں لگی ہوئیں تھیں تو کسی گھر میں پرانے انداز کے چپس لگے ہوئے تھے۔ کہیں کی سینٹری فٹنگ امپورٹڈ لگی ہوئی تھی تو کہیں دیسی سامان لگا ہوا تھا۔ کسی گھر کا دروازہ مشرق کی طرف تھا، تو کسی کا مغرب کی طرف، کوئی شمال کی طرف تھا اور کوئی جنوب کی طرف۔ ایک گھر اسے کچھ پسند آیا مگر وہ مارکیٹ کے بالکل پاس تھا، اس نے اسے اس لیے ریجکٹ کر دیا کہ مارکیٹ پاس ہو گی تو ہر وقت شاپنگ پہ جانے کا دل کرے گا اور خرچہ بہت ہو جائے گا پھر اسے جو دوسرا گھر پسند آیا، وہ مارکیٹ سے کافی دور تھا، اسے اس وجہ سے ریجکٹ کر دیا کہ جب شاپنگ پہ جانا ہوا تو آنے جانے میں ہی بہت خرچہ ہو جائے گا۔ تنگ آ کر اس نے گھر بدلنے کا خیال ہی چھوڑ دیا۔ اس نے صبر کرنا سیکھ لیا تھا۔

شام کو سالار کے آنے سے پہلے اس نے اپنی طبیعت بحال رکھنے کے لیے 3,4-Methyl​enedioxy​methamphetamine جسے Ecstasy بھی کہتے ہیں کھائی کیونکہ اسے سالار کی عادت کا پتہ تھا کہ وہ اسے زچ کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتا تھا۔ پتہ نہیں، اس کی قسمت ہی خراب تھی کہ اسے سالار جیسا شوہر ملا، ورنہ اُس نے عنیزہ کے کتنے ترلے کیے تھے کہ اس کی شادی فراز سے کروا دے مگر نہیں جی، محترمہ نے فراز کی شادی اسی سے کروانی تھی جس سے وہ پیار کرتا تھا۔ عجیب ہی فلسفہ ہے عنیزہ کا، دل من مسافر من، چلو مسافر تو ایک من کا ہو سکتا ہے مگر دل ایک من کا کیسے ہو سکتا ہے، اس نے سوچا۔ شاید فلسفے وغیرہ میں ہوتا ہو، اسے ویسے بھی یہ فلسفہ، سائینس اور آرٹس کم ہی سمجھ آتے تھے، وہ سیدھی سادھی زندگی گزارنے کی عادی تھی۔ ذہین بہت تھی، اسی لیے MBBS کرنے میں اسے زیادہ محنت نہیں کرنی پڑی تھی۔ سالار گھر آیا تو اس نے سالار سے کہا، کیا تم جانتے ہو 
what's next to ecstasy?

Nothingness .... سالار بولا

نہیں، یہ گھر۔ وہ بولی، اب ہم اسی گھر میں رہیں گے۔ ہمیں بچت کرنی چاہیے۔ کسی دوسری جگہ گھر لیں گے تو کرایہ ہمیں خود اپنی جیب سے دینا پڑے گا۔ ہم کیوں فضول پیسے ضائع کریں اور پوش علاقہ چھوڑ کر کسی ایسے علاقے میں رہیں، جہاں ملنے جلنے والوں کا رش لگا رہے۔ آپ کو تو کچھ احساس ہی نہیں کہ میں گھر کے خرچے کیسے پورے کرتی ہوں۔ میں نہ ہوں تو آپ دو مہینوں میں کنگال ہو جائیں۔ سالار نے سُکھ کا سانس لیا۔

اگلے دن امامہ نے سوچا اب تو یہیں رہنا ہے تو کیوں نہ اپنے پاس پڑوس والوں سے ہی سلام دعا کی جائے۔ تیار ہو کر وہ اپنے پڑوس والے گھر گئی، پڑوس والی بہت اخلاق سے ملی، البتہٰ اُس کا میاں بس ایویں سا تھا، نہ کوئی پرسنالٹی اور نہ کچھ سٹائیل۔ سالار تو اس کے مقابلے میں شہزادہ چارلس لگتا تھا۔ امامہ نے دل میں شکر ادا کیا کہ اس کی شادی سالار سے ہوئی، اس بجو قسم کے نمونے سے نہیں ہوئی۔ پڑوسن نے گلہ کرتے ہوئے کہا، ہم تو سمجھتے تھے کہ آپ کسی سے ملتی جلتی نہیں، اس لیے ہم ذرا آنے میں ہچکچا رہے تھے، لیکن ابھی میں سب گلی والی خواتین کو آپ سے ملواتی ہوں، وہ آپ سے مل کر بہت خوش ہوں گی۔ یہ کہہ کر اس نے کسی کو فون ملایا، "ہیلو! ہاں رباب، وہ ہماری نئی پڑوسن ہیں ناں، وہ ملنے آئی ہیں۔ تم سب کو لے کر میری طرف آ جاؤ۔" دوسری طرف سے کچھ سننے کے بعد کہنے لگیں، "ہاں ہاں، وہی، جن کے میاں، اپنی شادی سے پہلے کئی بار خودکشی کی کوشش کر چکے ہیں اور جنہیں اس دن کے تم نے پرانے شہر میں کسی اجنبی مرد کے ساتھ گھومتے دیکھا، جو تم کہہ رہی تھیں کہ بوائے فرینڈ لگ رہا تھا اور یہ دونوں کسی خالی گھر کا تالہ کھول کے اندر جا رہے تھے بس تم جلدی سے آ جاؤ، پھر ہم ان سے ان کی کہانی سنتے ہیں، قسم سے مجھے تو ایڈونچر کا سوچ سوچ کے مزہ آ رہا ہے۔"۔ 

وہ سالار کے دوست اور پراپرٹی ڈیلر تھے، میں ان کے ساتھ گھر دیکھنے گئی تھی، میں نے سوچا تھا کہ کیوں نہ ایک مکان خرید کر کرائے پر چڑھا دیں، امامہ نے فوراً بات بنائی۔ خاتون نے امامہ کو شکی نظروں سے دیکھا اور بولیں، یہ بس رباب کی عادت ہے ہر وقت باتیں بناتی رہتی ہے۔ اس سے ذرا محتاط رہنا، منہ پہ بہت اچھی بنتی ہے مگر فطرت کی بالکل کمولیکا ہے۔ ابھی امامہ مزید کچھ کہنے ہی لگی تھی کہ خواتین کے آنے کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ جو بھی آتی، امامہ اٹھ کر سلام کرتی۔

اس کو بار بار سلام کرتے دیکھ کر ایک خاتون، جن کا نام شہوار بتایا گیا تھا، بولیں، "امامہ! اتنے سلام کر رہی ہو، نئی نئی تو مسلمان نہیں ہوئیں؟" امامہ اس کی طرف پلٹی اور اپنی دلآویز مسکراہٹ کے ساتھ بولی، "جی، بس عقل آ گئی۔" شہوار، چپ سی ہو کر رہ گئی۔ "احسن آنے والے ہوں گے، میں ان کے کھانے کا بندوبست کر لوں" یہ کہہ کر وہ اٹھی اور باہر نکل گئی۔ اس کے باہر جاتے ہی باقی تمام خواتین نے امامہ کو بتایا کہ کیسے شہوار کو شادی سے پہلے اس کے ہزبینڈ نے اغوا کر لیا تھا اور کیسے یہ جانوروں کی طرح آپس میں جھگڑتے رہتے ہیں، لیکن لوگوں کے سامنے لیلیٰ مجنوں بنتے ہیں۔ کچھ دیر بیٹھنے کے بعد جب تمام غیبتیں ختم ہو گئیں تو تمام خواتین اپنے اپنے گھروں کو چلی گئیں، امامہ بھی واپس گھر آ گئی۔ اسے یہ شہر پسند آنے لگا تھا۔

اگلے دن دوپہر میں جب وہ کھانا بنانے کی تیاری شروع کر رہی تھی، بیس، فاؤنڈیشن، موسچرائزنگ کریم، فریکل کریم، بلیچ کریم، ہلکی سی لپ سٹک، کاجل، سرمہ وغیرہ ابھی اتنا ہی کیا تھا (ہم ٹی وی کے ڈرامے دیکھ کر امامہ نے سیلف گرومنگ بھی سیکھ لی تھی) کہ دروازے کی گھنٹی بجی، یہ بھی ایک پڑوسن ہی نکلی، اپنا نام اس نے رویحا گل بتایا۔ "آپ کیا کرتی ہو رویحا؟" امامہ نے پوچھا، اسے یہ لڑکی قدرے پسند آئی تھی۔ 

I love izmir butt, رویحا نے جواب دیا

I understand you love Izmir, but what?
 امامہ نے انگریزی بہ انگریزی جواب دیا۔

ازمیر میرا منگیتر ہے، رویحا بولی، ویسے آپ کی انگریزی اتنی اچھی نہیں لگ رہی، کہیں آپ نے زمیندار کالج سے تو ایم اے انگلش نہیں کیا ہوا؟

اوہ میں سمجھی آپ ترکی کے شہر ازمیر کی بات کر رہی ہیں اور میں ڈاکٹر ہوں۔ امامہ نے جنرل نالج جھاڑا۔ ڈاکٹر ہونے کے ساتھ ساتھ مجھے گول روٹی بھی بنانی آتی ہے، وہ اترائی۔

ارے نہیں نہیں۔ ویسے آج کل یہ ڈائجسٹوں نے نے بیڑہ غرق کر کے رکھ دیا ہے سمجھ ہی نہیں آتی کہ انسان کا نام ہے یا سڑک کا۔ اب دیکھیں ناں، فرانس والوں نے میری ایک دوست کے نام پر اپنی ایک سڑک کا نام رکھ دیا ہے۔ 

کون سی؟ امامہ نے حیران ہو کر پوچھا۔

شانزے لیزے۔ رویحا بولی

اچھا اچھا، امامہ گفتگو ختم کرتے ہوئے بولی۔ اسے شانزے لیزے کا نہیں پتہ تھا۔

وہ رویحا کو ساتھ لے کر کچن میں آ گئی اور کھانا پکانا شروع کر دیا۔ آج آپ کیا پکا رہی ہیں، رویحا نے پوچھا۔ آج میرا  پروگرام steamed rice cooked with chicken, spices & chillies بنانے کا ہے، وہ بولی۔ اچھا، بریانی، وہ امامہ کے سٹائل پر ٹھنڈا پانی گراتے ہو گویا ہوئی۔ 

اتنے میں ایک دو اور خواتین آ گئیں، گپ شپ اور غیبتوں کا سلسلہ شروع ہو گیا جو کئی دنوں تک چل سکتا تھا۔ امامہ نے بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ اچانک ایک پڑوسن بولی، آپ میوزک نہیں سنتیں؟ بس تھوڑا بہت، امامہ بولی۔

"آپ نے وہ گانا سنا ہے جس میں سنگر بیلا کے چاؤ اٹھانے کی خواہش کرتا ہے۔ میں نے تو فیصلہ کیا ہے اپنے بھائی کی مہندی پہ اسی گانے پہ ڈانس کروں گی۔ اتنا مزے کا گانا ہے ناں، بیلا چاؤ، چاؤ چاؤ۔ میرے بھائی کو بھی بہت چاؤ ہے بیلا سے شادی کرنے کا، اس کی منگیتر کا نام بیلا ہے ناں۔" وہ رک ہی نہیں رہی تھیں۔ امامہ نے فوراً گوگل کیا تو یہ دیکھ کر اس نے اپنا سر پکڑ لیا کہ یہ اصل میں دوسری جنگ عظیم کے دوران اٹلی کی مزاحمتی فوج کی طرف سے حملہ آوروں کے خلاف ایک انقلابی گانا تھا۔

امامہ مہمانوں کے لیے چائے بنانے اٹھی تو کسی نے ٹی وی آن کر دیا۔ ٹی وی پر خبریں چل رہی تھیں کہ پوری دنیا میں خوفناک وبا پھیلی ہوئی ہے اور اس بیماری کا ابھی تک کوئی علاج نہیں ہے۔ سائنسدانوں نے اس بیماری کو کرونا کا نام دیا تھا۔ امامہ نے اسی وقت فیصلہ کیا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ وہ اپنی تعلیم کا فائدہ انسانیت کو پہنچائے، اس نے چائے بناتے ہوئے فوراً دوسرے چولہے پر پانی ابلنے کو رکھا، اس میں لونگ لاچی، ادرک، اجوائن، سبز مرچیں، شہد، لیموں اور تلسی کے پتے ملا دئیے۔ چائے بننے تک کرونا کی ویکسین بھی تیار تھی۔ 

اس نے سالار کو فون کیا کہ کرونا کی وجہ سے وہ قرنطینہ میں جا رہی ہے، اس لیے جب تک وبا ختم نہیں ہوتی، سالار کو گھر آنے کی ضرورت نہیں۔ وہ اپنا انتظام کر لے گی۔ ادھر سالار بیچاره فون ہاتھ میں تھامے، ادریس بابر کا یہ شعر دہرا رہا تھا۔

‏‎ہنسی خوشی سبھی رہنے لگے مگر کب تک 
میں پوچھتا ہوں کہانی کے بعد کیا ہوا تھا

جمعرات، 3 جنوری، 2019

جدوں دی تبدیلی آئی اے

جدوں دی تبدیلی آئی اے
ود گئی مہنگائی اے
مچی پئی دہائی اے
جدوں دی تبدیلی آئی اے

تبدیلی آئی، بتی نئیں آؤندی
بتی ہووے، گیس نئیں آؤندی
بال پڑھاواں کہ عزت بچاواں
بل تاراں کہ روٹی کھاواں
سوچدی پئی خدائی اے
جدوں دی تبدیلی آئی اے

ہر شے تے ٹیکس پئے لاندے او
بےشرماں وانگوں کھاندے او
غربت مکانی سی ٹُٹ پینیو
تسی غریب مار مکائی جاندے او
ماڑے دی گلی ہوئی تلائی اے
جدوں دی تبدیلی آئی اے

تیل اے مہنگا، دال اے مہنگی
ہر شے نال و نال اے مہنگی
جے کوئی ساڑ چا پُھوکے
پیندی اوہنوں گال اے مہنگی
گھر والیاں توں ہوندی فیر جدائی اے
جدوں دی تبدیلی آئی اے

ہن شیرو ڈبو وزیر نے
تے پھنئیر، بھیڑے مشیر نے
جو بولے اوہنوں پے جاندے
اے ہلکے ہوئے امیر نے
ذلت دی اندھیری چھائی اے
جدوں دی تبدیلی آئی اے

جمعہ، 5 اکتوبر، 2018

کپتان کی ڈائری کا دو نمبر صفحہ

اچانک آنکھ کھلی، گھڑی دیکھی تو رات کے ڈھائی بج رہے تھے۔ کمرے میں خالی پن کا احساس ہوا تو گھبرا کر فیصل جاوید کو آواز دیتے دیتے رک گیا۔ خوش قسمتی سے یاد آ گیا کہ میں ایک بار پھر سے شادی زدہ ہوں اور بیگم بھی میکے نہیں گئی ہوئی ہیں۔ بیگم کو کمرے میں موجود نہ پا کر تھوڑا پریشان ہوا۔ واش روم کا دروازہ بھی کھلا تھا، تنہائی سے گھبرا کر لاؤنج میں آیا تو ایک پُرنور ہیولہ دیکھ کر گھگھی سی بندھ گئی کہ کہیں نیکی کا فرشتہ میرا حساب لینے تو نہیں آ گیا۔ غور سے دیکھا تو بیگم تھیں، ان کے چہرے کے پر نور دیکھ کر خوشی ہوئی لیکن پھر احساس ہوا بیگم تو میرے موبائل کی تلاشی لے رہی تھیں۔ ایک دم سکون کا احساس ہوا کہ شکر ہے اب میں بلیک بیری استعمال نہیں کرتا، لیکن پھر ایک دم یہ سوچ کر جان نکل گئی کہ اب سارے راز واٹس ایپ پر ہیں۔
فوراً دبے پاؤں بیگم کے پیچھے پہنچا تو یہ دیکھ کر جان نکل گئی کہ بیگم میری، مراد سعید اور حمزہ عباسی کی گروپ چیٹ کھولنے لگی تھیں، فوراً ہاؤ کیا کہ بیگم گھبرا کر موبائل پھینک دیں۔ بیگم نے ہاؤ سنتے ہی الٹا ہاتھ گھما کر میرے منہ پر مارا اور بولیں، اس کو کس نے گھر کے اندر گھسنے دیا، لاکھ بار خان جی کو کہا ہے کہ اسے گھر سے باہر رکھا کریں۔ تھپڑ لگتے ہی میری آنکھوں میں آنسو آ گئے اور میں روٹھ کر صوفے کے پیچھے جا کر بیٹھ گیا۔ بیگم آئیں، میرے آنسو دیکھ کر مجھے منایا۔ موٹو کو بھی ایسے ہی مناتی ہیں۔ بیگم برابری کے اصول پر سختی سے کاربند ہیں۔ مجھے اور موٹو کو کھانا بھی اکٹھے ہی دیتی ہیں۔ موقع دیکھ کر بیگم کے ہاتھ سے اپنا موبائل پکڑا اور کہا کہ آپ یہاں candy crush کھیل رہی ہیں، میں کمرے میں آپ کو مس کر رہا تھا۔ شکر ہے بیگم کا دھیان بدلا اور وہ کہنے لگیں، مجھے نیند نہیں آ رہی تھی تو سوچا کچھ لکھ لوں۔ اچانک منہ سے نکلا، بیگم ابھی تو ہماری طلاق نہیں ہوئی اور آپ ابھی سے ہی؟
اسی وقت دو آدمی قریبی الماری کے پیچھے سے نکلے اور بیگم سے اجازت طلب کرنے لگے، پوچھنے پر کہنے لگیں کہ یہ فرشتے ہیں ایک کا نام ٹیچی ہے اور دوسرا جو انگریزوں کی طرح لگتا ہے اس کا نام درشنی ہے۔ دونوں فرشتوں کی دست بوسی کرنا چاہی تو انسانوں کی ہی طرح لگے۔ درشنی نے کہا وہ یروشلم سے اہم پیغام لے کر آیا تھا اور اسے فوری واپس جانا ہے۔ رقت آمیز پلکوں کے ساتھ انہیں اجازت مرحمت کی لیکن حیرت ہے کہ وہ انسانوں ہی کی طرح چلتے ہوئے باہر گئے۔ معرفت کی باتیں ہیں، میری تو سمجھ میں نہیں آتی۔
بیگم کہنے لگیں کہ سو جائیں، صبح اسمبلی بھی جانا ہے۔ مچلتے ہوئے کہا کہ میرا دل نہیں کر رہا، میں نہیں جاؤں گا۔ جھڑکتے ہوئے بولیں، نوکر کی تے نخرہ کی۔ جانا تو پڑے گا۔ فوری طور پر صبح اسمبلی جانے کی تیاری شروع کر دی۔ سیکرٹری صاحب کے بوٹ پالش کیے، خوب اچھی طرح چمکائے حتٰی کہ اپنا عکس نظر آنا شروع ہو گیا۔ میں نے تو آئینہ دیکھنا ہی چھوڑ دیا ہوا ہے، آئینے میں خود کو دیکھ کر نہ جانے کیوں کراہت محسوس ہوتی ہے، شاید بوٹوکس خراب ہو گیا ہے۔ لیکن بوٹوں کے دائرے میں اپنا عکس اتنا خوبصورت لگتا ہے کہ کیا بتاؤں۔ بوٹ چمکا کر سو گیا۔

دروازہ کھٹکھٹائے جانے سے آنکھ کھلی تو حکم ملا کہ ہیلی تیار ہے، موٹو بھی بیٹھ چکا ہے، آپ کو بھی ساتھ جانا ہو گا۔ تسلی ہوئی کہ فواد چوہدری بھی ساتھ جائے گا۔ تیار ہو کر ہیلی میں بیٹھا، فوری طور پر ایک ہدایت نامہ میرے ہاتھ میں تھما دیا گیا۔ اس پر من و عن سختی سے کاربند رہنے کا حکم ملا۔ تعمیل کا وعدہ کیا۔ اسمبلی پہنچے تو حکم ملا کہ فوری طور پر اندر جاؤ۔ دروازے کے پاس جا کر میں نے عادتاً U-Turn لیا اور باہر کی طرف چل پڑا۔ یہ کم بخت عادتیں بھی ذلیل کروا دیتی ہیں۔ حلفیہ کہتا ہوں کہ یہ والا U-Turn عمداً نہیں تھا۔ اندر داخل ہوا تو خواجہ آصف کو دیکھ کر تراہ نکل گیا، فوراً باہر آ کر ترلا کیا کہ آج معافی دے دیں۔ کل آ جاؤں گا۔ کاش کل خواجہ نہ آئے۔
فوری طور پر ایک خفیہ دور کا بندوبست کیا گیا۔ دوبارہ ہیلی میں لاد کر ہیلی اڑایا گیا تو تھروٹک شروع ہو چکی تھی۔ منت سماجت کی کہ تھوڑی سی دے دو، صرف سونگھ کر واپس کر دوں گا۔ ستم ظریف نے ٹیلکم پاؤڈر سنگھا دیا۔ اگر ہیلی میں بوٹوں کی پالش کی مہک موجود نہ ہوتی تو شاید میری موت واقع ہو جاتی۔ لیکن میری سحری کی محنت نے مجھے بچا لیا۔ ہیلی ایک خفیہ مقام پر اتار کر میری آنکھوں پر پٹی باندھ کر مجھے کہیں لے جایا گیا۔ آٹھ گھنٹے تک مجھے وہاں رکھا گیا۔ کافی سخت سست کہا گیا، ناکامی پر بدترین نتائج کی دھمکی بھی دی گئی لیکن میں نے برا محسوس نہیں کیا، بھلا محسنوں کی کسی بات کا بھی برا مانتے ہیں۔ کئی لوگوں نے طمانچے وغیرہ بھی لگائے۔ میرا خیال ہے نواز شریف نے یہاں بھی اپنے بندے رکھے ہوئے ہیں، ورنہ اس سے پہلے بات گالم گلوچ تک ہی رہتی تھی۔

آٹھ گھنٹے بعد مجھے واپس ہیلی میں بٹھا کر گھر پہنچایا گیا۔ اترتے ہی ڈھیر سارے بوٹ میرے حوالے کر کے حکم دیا گیا کہ سونے سے پہلے لازمی پالش کرنے ہیں۔ پالش برش پکڑ کر بیٹھ گیا، بیگم نے ٹی وی آن کیا تو خبر آ رہی تھی کہ میں نے ایک اہم مقام کا دورہ کیا، جہاں مجھے اہم بریفنگ دی گئی۔

منگل، 24 اپریل، 2018

تحریک انصاف میں شمولیت کے لیے میری شرائط

اگر میرے مندرجہ ذیل چودہ نکات کو قبول کر لیا جائے تو میں فوری طور پر تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کر لوں گا۔

‏‎۱۔ کوئی تحریکی کسی کو گالی نہیں دے گا۔

۲۔ جھوٹی اور غلط خبریں نہیں پھیلائی جائیں گی۔

۳۔ کسی کی بھی بالخصوص خواتین کی کردار کشی نہیں کی جائے گی۔

۴۔ یو ٹرن لینے بند کیے جائیں گے۔

۵۔ جس کسی نے بھی خواتین کو گندے میسج بھیجے ہوں، اسے پارٹی سے نکالا جائے گا۔

‏‎۶۔ غلط اور بیہودہ ٹرینڈز بنانے والوں کو پارٹی سے نکالا جائے گا۔

۷۔ ووٹ نہ دینے والوں کو جاہل نہیں کہا جائے گا۔

۸۔ لوٹوں کو قبول نہیں کیا جائے گا۔

۹۔ اخلاقی بدعنوان شخص پارٹی عہدے کے لیے نااہل ہو گا۔

۱۰۔ پارٹی میں اہمیت کسی جہاز یا پیسے کی مرہون منت نہ ہو گی۔

‏‎۱۱۔ انٹرا پارٹی الیکشنز میں دھاندلی میں ملوث لوگوں کو پارٹی سے بلیک لسٹ کیا جائے گا۔

۱۲۔ فنڈنگ، بالخصوص فارن فنڈنگ یہودیوں اور ہندوستانیوں سے نہیں لی جائے گی۔

۱۳۔ اسرائیل کی وفاداری چھوڑ کر، صرف اسلام اور پاکستان سے وفاداری پارٹی کا نظریہ ہو گا۔

‏‎۱۴۔ تحریک انصاف کو پاکستان مسلم لیگ ن میں ضم کر دیا جائے گا۔

ہفتہ، 16 دسمبر، 2017

سپریم کورٹ میں عمران خان کی اہلیت کی اصل وجوہات

‏جن کم عقلوں اور کُند ذہنوں کو عمران خان کے مقدمے میں فیصلے کی سمجھ نہیں آئی، اُن کے لیے آسان الفاظ میں تفصیل پیش کر دیتا ہوں۔
‏عمران خان کی بہنوں نے ایک آفشور کمپنی نیازی سروسز لمیٹڈ بنائی، جس سے عمران خان کا کچھ لینا دینا نہیں تھا، اس کمپنی کا مقصد صرف عمران خان کی کمائی پر ٹیکس بچانا تھا، کیونکہ اس کمپنی کا عمران خان سے کوئی تعلق نہیں تھا۔
‏پھر اس کمپنی جو کہ عمران خان کی بہنوں کی ملکیت تھی اور اس کا عمران خان سے کوئی تعلق نہیں تھا، نے ایک فلیٹ خریدا جو کہ عمران خان کا تھا اور اس کی تمام رقم بقول عمران خان نے ادا کی کیونکہ عمران خان کا اس کمپنی سے کوئی تعلق نہیں تھا۔
‏پھر جب عمران خان نے بقول عمران خان یہ فیصلہ کیا کہ اسے بنی گالہ میں گھر بنانے کے لیے زمین چاہیے تو اس کی بیوی جمائمہ نے عمران خان کو یہ زمین خرید کر گفٹ کر دی، جس کے لیے عمران خان نے جمائمہ سے پیسے ادھار لیے اور جمائمہ نے یہ زمین عمران خان کے نام بےنامی ٹرانسفر کر دی۔
‏اس زمین کے لیے جو رقم استعمال ہوئی وہ عمران خان کے دوستوں نے ادا کی، جن کو جمائمہ نے رقم ادا کی۔
یوں یہ زمین جو کہ جمائمہ نے عمران کو ہبہ کی تھی، اس کے قرض کی رقم واپس کرنے کے لیے، عمران خان کی بہنوں کی کمپنی، جس سے عمران خان کا کوئی تعلق نہیں تھا، نے عمران خان کا فیلٹ بیچ دیا۔
‏اس فلیٹ کو بیچنے کے لیے اور رقم کی ادائیگی اور وصولی کے لیے جتنی بھی خط و کتابت ہوئی وہ عمران خان نے کی، کیونکہ کمپنی عمران خان کی بہنوں کی تھی اور اس سے عمران خان کا کوئی تعلق نہیں تھا۔
اس پورے عرصے میں عمران خان کی بہنوں کا ایک بھی آفیشل آرڈر نہیں ہے، جس میں ‏انہوں نے کمپنی کو عمران خان کے معاملات دیکھنے کی اجازت دی ہو یا عمران خان کو کمپنی کے معاملات دیکھنے کی اجازت دی ہو، کیونکہ کمپنی عمران خان کی بہنوں کی تھی اور عمران خان کا اس سے کوئی تعلق نہیں تھا۔
‏اب عمران خان جتنا بھی پیسہ پاکستان لائے اس کے لیے حوالہ اور ہنڈی استعمال کے ذرائع استعمال کیے گئے اور آخر میں پرویزمشرف کی کالا دھن، سفید کرنے کی سکیم استعمال کی گئی، جو کہ عمران خان کے نزدیک تمام قانونی ذرائع تھے۔
‏ان تمام باتوں کے بعد جب یہ مقدمہ عدالت میں پیش ہوا تو عمران خان نے کہا کہ یہ کمپنی میری تھی اور میں نے یہ کمپنی ٹیکس بچانے کے لیے بنائی کیونکہ یہ میری بہنوں کی کمپنی تھی اور اس سے میرا کوئی تعلق نہیں تھا۔
‏تو اس بات کو بنیاد بنا کر عدالت نے عمران خان کو نااہل قرار نہ دیا کہ یہ کمپنی عمران خان کی بہنوں کی تھی اور اس سے عمران خان کا کوئی تعلق نہیں تھا۔
۔
بس اتنی سی بات تھی۔

اتوار، 5 نومبر، 2017

حقیقت

رات پورے چاند کی تھی
ہوا بھی کچھ سرد تھی
اور تُو مرے ساتھ تھی
اسی عالمِ شوق میں، دیدِ فلک کے ذوق میں
میں بہت دُور نکل گیا
اور "اپنی سمت" چل پڑا
دُور زمیں پہ جو چراغ تھے
مری آرزو کے وہ، دلفریب باغ تھے
اور جب!
آخرِ شب کے چاند نے، مسکرا کہ یوں کہا
ہے دعا یہ دل کی
ساتھ ساتھ رہو سدا
تو اک نوا سنائی دی
اور اس تلخیٔ ایام کی اک جھلک دکھائی دی
ہر طرف ہے کِشت و خوں
زندگی جاں بلب اور چار سُو درد کا فسوں
ہے حاصلِ الفت آزردگی
اور اک مستقل شکستگی
یہ بات کچھ عجیب ہے
جو چاہ طلب ہے وہ غم سے قریب ہے
اور غم کی بات نہ کرو
غم ہے غمِ دوستی
غم ہے غمِ زندگی
غم، غمِ یار بھی ہے
غم، روزگار بھی ہے
اور جب حُسن ہو غمزدہ
تو غم شاہکار بھی ہے
اس نوائے بےصدا نے مجھے خواب سے جگا دیا
رخ زندگی کا نیا اک دکھا دیا
میری آنکھ جو کُھلی تو دیکھا کچھ اور ہی
میں دشت کے اِس پار تھا
تُو ساگر کی اُس اور تھی

ہفتہ، 29 جولائی، 2017

پشیمان آئینہ فروش


(ایک نظم جو امتنان قاضی کے بارے میں نہیں لکھی گئی)

کبھی کسی بازار میں کہیں
آئینے بیچ رہا تھا کوئی قاضی
کسی نابکار نے یہ سوال کیا
بہ صد تکریم و عجز و وقار
حضور نے یہ پیشہ کیونکر اختیار کیا؟
کیا حضور کے ذمہ تمام فرائض ادا ہو چکے؟
مجرم سزا پا چکے، مظلوم جزا پا چکے؟
عرق آلود پیشانی کے ساتھ بہ پشیمانی
آئینہ فروش کچھ یوں گویا ہوا
کچھ ایسا انصاف کیا ہے اک فیصلے میں
کسی اور کا تو کیا کہوں
آئینے سے بھی نظر نہیں ملا پایا ہوں میں
سو گھر کے تمام آئینے بازار میں لے آیا ہوں میں

منگل، 30 مئی، 2017

آخری خواہش

اگر میں لاپتہ ہو جاؤں
تو میرے لیے مت تکلیف اٹھانا
نہ کوئی کمپین چلانا، نہ کوئی ٹرینڈ بنانا
نہ کوئی احتجاج کرنا، نہ موم بتیاں جلانا
بس چند دعائیہ فقرے ادا کر کے
کسی بھی جگہ پر کچھ پھول بکھیر دینا
اور اگر میں نہ لوٹوں تو
تو بس یہ یاد رکھنا
تمہارے جمہوری مستقبل کے لیے
میں نے اپنا آج قربان کر دیا ہے

بدھ، 16 نومبر، 2016

Entropy

ترتیب کا واہمہ تقدیر سے سوا ہے
اک چیز اٹھانے سے ترتیب بدل جاتی ہے
اک نئی ترتیب نمو پاتی ہے
اس چیز کو وہیں لوٹانے سے
پرانی ترتیب بحال نہیں ہوتی
ہاں! نئی ترتیب ضرور بےترتیب ہو جاتی ہے
چاند ستارے گھوم گھما کر پھر لوٹ آتے ہیں
اس بے ترتیبی میں زمیں بھی چکراتی جاتی ہے
کہکشاں مسافر ہے، کائنات مسافر ہے
نقطے سے آغاز ہوا، انتہا لامتناہی ہے
یہ مفروضہ بھی راسخ ہے کہ
انتہا کچھ بھی نہیں
لوٹ کے آغاز کو آنا ہے
کیا پھر سے کن فیکون کہلوانا ہے؟

اتوار، 6 نومبر، 2016

محب

بہت سادہ، بہت عمیق جیسے چھوٹی بحر میں غالب  کی لائن
‏فارہہ، صوفیہ، نہ شہناز
زیدی، ثروؔت، جوؔن کی سوچ سے بڑھ کر پرخیال
مستعار لے جس سے گلزاؔر اپنے تمام استعارے
ساؔغر کی تلخی کے زہر سے، ساؔحر کی لفاظی  کے سِحر سے پرے
بدر کی نمکینی، محسن کی شیرینی سے تھوڑا ہٹ کے
بابر کے عشرے کی طرح ترو تازہ
‏اکھیوں مں صبح صادق سی چمک، گالوں پہ شفق شام سی
دید میں حسنِ تام ہے وہ نہ شنید میں عام سی

بدھ، 5 اکتوبر، 2016

نتیجہ

پیرا سائیکالوجی (Parapsychology) اور مابعد الطبعیات (Metaphysics) عمومی طور پر ہم عام لوگوں کے لیے فقط قصے کہانیوں کی باتیں ہیں۔ کچھ لوگ ان پر اعتقاد بھی رکھتے ہیں، اور ایسے لوگ آج کل کے دور میں عموماً جعلی اور ڈبہ پیروں کے چنگل میں جا پھنستے ہیں۔ لیکن یہ صرف ماورائی اور قصے کہانیوں کی بات نہیں ہیں، ان میں حقیقت اور سچائی موجود ہے۔ جو لوگ پیراسائیکالوجی اور مابعد الطبعیات پر عبور حاصل کر لیتے ہیں، وہ عام لوگوں میں کھلتے نہیں ہیں، کیونکہ ان کی دنیا ہی الگ ہو جاتی ہے۔

یہ واقعہ جو میں بیان کرنے لگا ہوں، اس کی بنیاد بھی ایک خاتون کی پیرا سائیکالوجی اور مابعد الطبعیات میں دلچسسپی، محنت اور اس کے بعد ان کو ملنے والے منفرد تجربے پر ہے۔

کچھ سال قبل ایک امریکی خاتون کو ان علوم میں دلچسپی پیدا ہوئی، ابتدائی طور پر چند کتب پڑھنے کے بعد اس نے خود سے ان علوم کو سیکھنے کی تگ و دو شروع کر دی۔ اس نے انٹرنیٹ پر چند ایسی ویب سائیٹس کی ممبرشپ بھی حاصل کی، جہاں اس کے ہم شوق افراد موجود تھے، وہاں اس کی ملاقات ایک نوجوان سے ہوئی، جو ان علوم پر کافی دسترس حاصل کر چکا تھا۔ دونوں کے درمیان پیغامات کا تبادلہ شروع ہوا اور قربت بڑھتی گئی۔

چند ایک ملاقاتوں کے بعد نوجوان نے خاتون کیتھی کو بتایا کہ اگر ان علوم پر واقعی دسترس حاصل کرنی ہے تو ہمیں ہمالیہ کی ترائی میں جانا پڑے گا، وہاں دنیا کے سب سے کامل ماہرین موجود ہیں، جو ان علوم کی خاطر دنیا تیاگ چکے ہیں۔ دونوں نے فیصلہ کیا کہ وہاں سے واپسی کے بعد وہ شادی کے بندھن میں بھی بندھ جائیں گے۔

سفری تیاریوں کے بعد یہ لوگ ہمالیہ کی ترائی میں پہنچ گئے اور کسی استاد کی تلاش شروع کر دی۔ کچھ عطائیوں کے ہاتھوں بیوقوف بننے کے بعد سچی لگن کے سبب آخرکار ان کو ایک ایسی شخصیت مل گئی جسے ان علوم میں جامعہ کا درجہ حاصل تھا۔ اس شخص نے ان کی تربیت کی حامی بھری اور ان کی تعلیم شروع ہو گئی۔ ہوا یوں کہ جیسے جیسے تربیت کٹھن ہوتی گئی، لڑکے جارج کا دل اٹھتا گیا مگر کیتھی کے اندر مزید علم حاصل کرنے کی لگن بڑھتی گئی۔

جارج نے کئی بار کیتھی سے کہا کہ ہم نے کافی کچھ سیکھ لیا ہے، اب ہمیں واپس امریکہ چلنا چاہیے مگر کیتھی ہمیشہ انکار کر دیتی۔ آخر ایک وقت ایسا آ گیا کہ جارج نے کیتھی سے صاف کہہ دیا کہ وہ تو سہولیات سے عاری اس علاقے سے تنگ آ گیا ہے اور واپس امریکہ جا رہا ہے۔ اگر کیتھی تین ماہ کے اندر واپس نہ آئی تو وہ کسی اور سے شادی کر لے گا۔ کیتھی نے کہا کہ وہ کوشش کرے گی لیکن وعدہ نہیں کر سکتی اور اگر وہ تین ماہ میں واپس نہ پہنچی تو جارج کسی سے بھی شادی کرنے کو آزاد ہو گا۔

جارج واپس چلا گیا اور کیتھی دوبارہ تربیت میں ڈوب گئی۔ تین ماہ گزر گئے اور کیتھی کو احساس بھی نہ ہوا۔ وہ تربیت اور مشق میں اتنا غرق ہوئی کہ نہ جانے کب اس نے خیال خوانی یعنی ٹیلی پیتھی پر بھی عبور حاصل کر لیا۔ جب اس کے استاد کو پتہ چلا تو اس نے کیتھی کو خبردار کیا کہ اب وہ اس دائرے میں داخل ہو چکی ہے جو انتہائی خطرناک ہے، کیونکہ اس کی اس صلاحیت کا حکومت اور مجرم دونوں فائدہ اٹھانے کی کوشش کریں گے۔ کیتھی نے فیصلہ کیا کہ وہ اپنی اس صلاحیت کا کبھی استعمال ہی نہیں کرے گی، مگر اپنی مشقیں جاری رکھے گی۔

استاد کے مشورے سے مزید سخت مشقوں کے لیے کیتھی ہمالیہ کے ایک برفانی غار میں منتقل ہو گئی اور اس نے آگ پر پکا ہوا کھانا بھی چھوڑ دیا۔ اب اس کا گزارہ فقط کچی سبزیوں، پھلوں اور دودھ پر تھا۔
مشقوں کے دوران کیتھی کو یہ احساس ہوا کہ ہم جو کچھ سوچتے ہیں، وہ سوچ مقناطیسی کشش کی طرح اپنا ایک دائرہ بناتی ہے، جس سے اس کے اردگرد بیٹھے لوگ متاثر ہوتے ہیں، اگرچہ اس سوچ کو الفاظ کی شکل نہ بھی دی جائے۔ کیتھی نے سوچا کہ جب ہماری سوچ اپنا اثر رکھتی ہے تو اس کے ردعمل میں بھی کوئی سوچ پیدا ہوتی ہو گی، کیوں نہ کوئی ایسا طریقہ نکالا جائے کہ ہماری سوچ کے ردعمل میں جو سوچ پیدا ہو، وہ خودبخود پہلے سوچنے والے فرد کے دماغ تک اسی مقناطیسی سگنل کے ذریعے پہنچ جائے۔

مروجہ مشقوں اور تربیت میں کیتھی کو اس کا کوئی حل نہ ملا تو کیتھی نے خود سے کچھ مشقیں شروع کر دیں، اس نے اس دوران خیال خوانی کے زریعے جارج کا حال بھی پتہ کیا تھا۔ جارج نے ابھی تک شادی نہیں کی تھی اور کیتھی کا منتظر تھا۔ اسے یقین تھا کہ اس کی سچی محبت ایک نہ ایک دن کیتھی کو ضرور واپس لائے گی۔ چھ مہینے کی مسلسل مشقوں کے بعد کیتھی اس قابل ہو گئی کہ اپنی سوچ کے ردعمل میں پیدا ہونے والی سوچ کو مخصوص کر لے مگر یہ ردعمل ابھی تک الفاظ کی صورت میں اس کے ذہن میں ابھر نہ رہا تھا۔ کیتھی نے مشقیں مزید سخت کر دیں۔ ایک دن نو گھنٹے کی مسلسل مشقوں کے بعد، کیتھی کے دماغ میں سوچ پیدا ہوئی کہ آج مجھے آگ پر پکا ہوا کچھ کھانا چاہیے، لیکن کیتھی کی خوشی کی انتہا نہ رہی جب اس کو اپنی تپسیا کی کامیابی کا یقین ملا، کیتھی کی سوچ کے جواب میں فوراً ہی کیتھی کے دماغ نے ایک سگنل کیچ کر کے اسے الفاظ کی شکل دی۔ وہ الفاظ کچھ یوں تھے:

"Wajid Rasool Malik Likes This."۔