بدھ، 24 جولائی، 2024
کون آئے گا ہماری پکار پر؟
جمعرات، 22 جون، 2023
روایات کا تحفظ
جمعہ، 27 نومبر، 2020
عمروعیار اور الزام جادوگر
ہفتہ، 18 اپریل، 2020
شادی کے بعد کیا ہوا تھا۔ ایک ایسی کہانی جو کسی ڈائجسٹ میں نہیں چھپ سکتی۔
جمعرات، 3 جنوری، 2019
جدوں دی تبدیلی آئی اے
جدوں دی تبدیلی آئی اے
ود گئی مہنگائی اے
مچی پئی دہائی اے
جدوں دی تبدیلی آئی اے
تبدیلی آئی، بتی نئیں آؤندی
بتی ہووے، گیس نئیں آؤندی
بال پڑھاواں کہ عزت بچاواں
بل تاراں کہ روٹی کھاواں
سوچدی پئی خدائی اے
جدوں دی تبدیلی آئی اے
ہر شے تے ٹیکس پئے لاندے او
بےشرماں وانگوں کھاندے او
غربت مکانی سی ٹُٹ پینیو
تسی غریب مار مکائی جاندے او
ماڑے دی گلی ہوئی تلائی اے
جدوں دی تبدیلی آئی اے
تیل اے مہنگا، دال اے مہنگی
ہر شے نال و نال اے مہنگی
جے کوئی ساڑ چا پُھوکے
پیندی اوہنوں گال اے مہنگی
گھر والیاں توں ہوندی فیر جدائی اے
جدوں دی تبدیلی آئی اے
ہن شیرو ڈبو وزیر نے
تے پھنئیر، بھیڑے مشیر نے
جو بولے اوہنوں پے جاندے
اے ہلکے ہوئے امیر نے
ذلت دی اندھیری چھائی اے
جدوں دی تبدیلی آئی اے
جمعہ، 5 اکتوبر، 2018
کپتان کی ڈائری کا دو نمبر صفحہ
اچانک آنکھ کھلی، گھڑی دیکھی تو رات کے ڈھائی بج رہے تھے۔ کمرے میں خالی پن کا احساس ہوا تو گھبرا کر فیصل جاوید کو آواز دیتے دیتے رک گیا۔ خوش قسمتی سے یاد آ گیا کہ میں ایک بار پھر سے شادی زدہ ہوں اور بیگم بھی میکے نہیں گئی ہوئی ہیں۔ بیگم کو کمرے میں موجود نہ پا کر تھوڑا پریشان ہوا۔ واش روم کا دروازہ بھی کھلا تھا، تنہائی سے گھبرا کر لاؤنج میں آیا تو ایک پُرنور ہیولہ دیکھ کر گھگھی سی بندھ گئی کہ کہیں نیکی کا فرشتہ میرا حساب لینے تو نہیں آ گیا۔ غور سے دیکھا تو بیگم تھیں، ان کے چہرے کے پر نور دیکھ کر خوشی ہوئی لیکن پھر احساس ہوا بیگم تو میرے موبائل کی تلاشی لے رہی تھیں۔ ایک دم سکون کا احساس ہوا کہ شکر ہے اب میں بلیک بیری استعمال نہیں کرتا، لیکن پھر ایک دم یہ سوچ کر جان نکل گئی کہ اب سارے راز واٹس ایپ پر ہیں۔
فوراً دبے پاؤں بیگم کے پیچھے پہنچا تو یہ دیکھ کر جان نکل گئی کہ بیگم میری، مراد سعید اور حمزہ عباسی کی گروپ چیٹ کھولنے لگی تھیں، فوراً ہاؤ کیا کہ بیگم گھبرا کر موبائل پھینک دیں۔ بیگم نے ہاؤ سنتے ہی الٹا ہاتھ گھما کر میرے منہ پر مارا اور بولیں، اس کو کس نے گھر کے اندر گھسنے دیا، لاکھ بار خان جی کو کہا ہے کہ اسے گھر سے باہر رکھا کریں۔ تھپڑ لگتے ہی میری آنکھوں میں آنسو آ گئے اور میں روٹھ کر صوفے کے پیچھے جا کر بیٹھ گیا۔ بیگم آئیں، میرے آنسو دیکھ کر مجھے منایا۔ موٹو کو بھی ایسے ہی مناتی ہیں۔ بیگم برابری کے اصول پر سختی سے کاربند ہیں۔ مجھے اور موٹو کو کھانا بھی اکٹھے ہی دیتی ہیں۔ موقع دیکھ کر بیگم کے ہاتھ سے اپنا موبائل پکڑا اور کہا کہ آپ یہاں candy crush کھیل رہی ہیں، میں کمرے میں آپ کو مس کر رہا تھا۔ شکر ہے بیگم کا دھیان بدلا اور وہ کہنے لگیں، مجھے نیند نہیں آ رہی تھی تو سوچا کچھ لکھ لوں۔ اچانک منہ سے نکلا، بیگم ابھی تو ہماری طلاق نہیں ہوئی اور آپ ابھی سے ہی؟
اسی وقت دو آدمی قریبی الماری کے پیچھے سے نکلے اور بیگم سے اجازت طلب کرنے لگے، پوچھنے پر کہنے لگیں کہ یہ فرشتے ہیں ایک کا نام ٹیچی ہے اور دوسرا جو انگریزوں کی طرح لگتا ہے اس کا نام درشنی ہے۔ دونوں فرشتوں کی دست بوسی کرنا چاہی تو انسانوں کی ہی طرح لگے۔ درشنی نے کہا وہ یروشلم سے اہم پیغام لے کر آیا تھا اور اسے فوری واپس جانا ہے۔ رقت آمیز پلکوں کے ساتھ انہیں اجازت مرحمت کی لیکن حیرت ہے کہ وہ انسانوں ہی کی طرح چلتے ہوئے باہر گئے۔ معرفت کی باتیں ہیں، میری تو سمجھ میں نہیں آتی۔
بیگم کہنے لگیں کہ سو جائیں، صبح اسمبلی بھی جانا ہے۔ مچلتے ہوئے کہا کہ میرا دل نہیں کر رہا، میں نہیں جاؤں گا۔ جھڑکتے ہوئے بولیں، نوکر کی تے نخرہ کی۔ جانا تو پڑے گا۔ فوری طور پر صبح اسمبلی جانے کی تیاری شروع کر دی۔ سیکرٹری صاحب کے بوٹ پالش کیے، خوب اچھی طرح چمکائے حتٰی کہ اپنا عکس نظر آنا شروع ہو گیا۔ میں نے تو آئینہ دیکھنا ہی چھوڑ دیا ہوا ہے، آئینے میں خود کو دیکھ کر نہ جانے کیوں کراہت محسوس ہوتی ہے، شاید بوٹوکس خراب ہو گیا ہے۔ لیکن بوٹوں کے دائرے میں اپنا عکس اتنا خوبصورت لگتا ہے کہ کیا بتاؤں۔ بوٹ چمکا کر سو گیا۔
دروازہ کھٹکھٹائے جانے سے آنکھ کھلی تو حکم ملا کہ ہیلی تیار ہے، موٹو بھی بیٹھ چکا ہے، آپ کو بھی ساتھ جانا ہو گا۔ تسلی ہوئی کہ فواد چوہدری بھی ساتھ جائے گا۔ تیار ہو کر ہیلی میں بیٹھا، فوری طور پر ایک ہدایت نامہ میرے ہاتھ میں تھما دیا گیا۔ اس پر من و عن سختی سے کاربند رہنے کا حکم ملا۔ تعمیل کا وعدہ کیا۔ اسمبلی پہنچے تو حکم ملا کہ فوری طور پر اندر جاؤ۔ دروازے کے پاس جا کر میں نے عادتاً U-Turn لیا اور باہر کی طرف چل پڑا۔ یہ کم بخت عادتیں بھی ذلیل کروا دیتی ہیں۔ حلفیہ کہتا ہوں کہ یہ والا U-Turn عمداً نہیں تھا۔ اندر داخل ہوا تو خواجہ آصف کو دیکھ کر تراہ نکل گیا، فوراً باہر آ کر ترلا کیا کہ آج معافی دے دیں۔ کل آ جاؤں گا۔ کاش کل خواجہ نہ آئے۔
فوری طور پر ایک خفیہ دور کا بندوبست کیا گیا۔ دوبارہ ہیلی میں لاد کر ہیلی اڑایا گیا تو تھروٹک شروع ہو چکی تھی۔ منت سماجت کی کہ تھوڑی سی دے دو، صرف سونگھ کر واپس کر دوں گا۔ ستم ظریف نے ٹیلکم پاؤڈر سنگھا دیا۔ اگر ہیلی میں بوٹوں کی پالش کی مہک موجود نہ ہوتی تو شاید میری موت واقع ہو جاتی۔ لیکن میری سحری کی محنت نے مجھے بچا لیا۔ ہیلی ایک خفیہ مقام پر اتار کر میری آنکھوں پر پٹی باندھ کر مجھے کہیں لے جایا گیا۔ آٹھ گھنٹے تک مجھے وہاں رکھا گیا۔ کافی سخت سست کہا گیا، ناکامی پر بدترین نتائج کی دھمکی بھی دی گئی لیکن میں نے برا محسوس نہیں کیا، بھلا محسنوں کی کسی بات کا بھی برا مانتے ہیں۔ کئی لوگوں نے طمانچے وغیرہ بھی لگائے۔ میرا خیال ہے نواز شریف نے یہاں بھی اپنے بندے رکھے ہوئے ہیں، ورنہ اس سے پہلے بات گالم گلوچ تک ہی رہتی تھی۔
آٹھ گھنٹے بعد مجھے واپس ہیلی میں بٹھا کر گھر پہنچایا گیا۔ اترتے ہی ڈھیر سارے بوٹ میرے حوالے کر کے حکم دیا گیا کہ سونے سے پہلے لازمی پالش کرنے ہیں۔ پالش برش پکڑ کر بیٹھ گیا، بیگم نے ٹی وی آن کیا تو خبر آ رہی تھی کہ میں نے ایک اہم مقام کا دورہ کیا، جہاں مجھے اہم بریفنگ دی گئی۔
منگل، 24 اپریل، 2018
تحریک انصاف میں شمولیت کے لیے میری شرائط
اگر میرے مندرجہ ذیل چودہ نکات کو قبول کر لیا جائے تو میں فوری طور پر تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کر لوں گا۔
۱۔ کوئی تحریکی کسی کو گالی نہیں دے گا۔
۲۔ جھوٹی اور غلط خبریں نہیں پھیلائی جائیں گی۔
۳۔ کسی کی بھی بالخصوص خواتین کی کردار کشی نہیں کی جائے گی۔
۴۔ یو ٹرن لینے بند کیے جائیں گے۔
۵۔ جس کسی نے بھی خواتین کو گندے میسج بھیجے ہوں، اسے پارٹی سے نکالا جائے گا۔
۶۔ غلط اور بیہودہ ٹرینڈز بنانے والوں کو پارٹی سے نکالا جائے گا۔
۷۔ ووٹ نہ دینے والوں کو جاہل نہیں کہا جائے گا۔
۸۔ لوٹوں کو قبول نہیں کیا جائے گا۔
۹۔ اخلاقی بدعنوان شخص پارٹی عہدے کے لیے نااہل ہو گا۔
۱۰۔ پارٹی میں اہمیت کسی جہاز یا پیسے کی مرہون منت نہ ہو گی۔
۱۱۔ انٹرا پارٹی الیکشنز میں دھاندلی میں ملوث لوگوں کو پارٹی سے بلیک لسٹ کیا جائے گا۔
۱۲۔ فنڈنگ، بالخصوص فارن فنڈنگ یہودیوں اور ہندوستانیوں سے نہیں لی جائے گی۔
۱۳۔ اسرائیل کی وفاداری چھوڑ کر، صرف اسلام اور پاکستان سے وفاداری پارٹی کا نظریہ ہو گا۔
۱۴۔ تحریک انصاف کو پاکستان مسلم لیگ ن میں ضم کر دیا جائے گا۔
ہفتہ، 16 دسمبر، 2017
سپریم کورٹ میں عمران خان کی اہلیت کی اصل وجوہات
جن کم عقلوں اور کُند ذہنوں کو عمران خان کے مقدمے میں فیصلے کی سمجھ نہیں آئی، اُن کے لیے آسان الفاظ میں تفصیل پیش کر دیتا ہوں۔
عمران خان کی بہنوں نے ایک آفشور کمپنی نیازی سروسز لمیٹڈ بنائی، جس سے عمران خان کا کچھ لینا دینا نہیں تھا، اس کمپنی کا مقصد صرف عمران خان کی کمائی پر ٹیکس بچانا تھا، کیونکہ اس کمپنی کا عمران خان سے کوئی تعلق نہیں تھا۔
پھر اس کمپنی جو کہ عمران خان کی بہنوں کی ملکیت تھی اور اس کا عمران خان سے کوئی تعلق نہیں تھا، نے ایک فلیٹ خریدا جو کہ عمران خان کا تھا اور اس کی تمام رقم بقول عمران خان نے ادا کی کیونکہ عمران خان کا اس کمپنی سے کوئی تعلق نہیں تھا۔
پھر جب عمران خان نے بقول عمران خان یہ فیصلہ کیا کہ اسے بنی گالہ میں گھر بنانے کے لیے زمین چاہیے تو اس کی بیوی جمائمہ نے عمران خان کو یہ زمین خرید کر گفٹ کر دی، جس کے لیے عمران خان نے جمائمہ سے پیسے ادھار لیے اور جمائمہ نے یہ زمین عمران خان کے نام بےنامی ٹرانسفر کر دی۔
اس زمین کے لیے جو رقم استعمال ہوئی وہ عمران خان کے دوستوں نے ادا کی، جن کو جمائمہ نے رقم ادا کی۔
یوں یہ زمین جو کہ جمائمہ نے عمران کو ہبہ کی تھی، اس کے قرض کی رقم واپس کرنے کے لیے، عمران خان کی بہنوں کی کمپنی، جس سے عمران خان کا کوئی تعلق نہیں تھا، نے عمران خان کا فیلٹ بیچ دیا۔
اس فلیٹ کو بیچنے کے لیے اور رقم کی ادائیگی اور وصولی کے لیے جتنی بھی خط و کتابت ہوئی وہ عمران خان نے کی، کیونکہ کمپنی عمران خان کی بہنوں کی تھی اور اس سے عمران خان کا کوئی تعلق نہیں تھا۔
اس پورے عرصے میں عمران خان کی بہنوں کا ایک بھی آفیشل آرڈر نہیں ہے، جس میں انہوں نے کمپنی کو عمران خان کے معاملات دیکھنے کی اجازت دی ہو یا عمران خان کو کمپنی کے معاملات دیکھنے کی اجازت دی ہو، کیونکہ کمپنی عمران خان کی بہنوں کی تھی اور عمران خان کا اس سے کوئی تعلق نہیں تھا۔
اب عمران خان جتنا بھی پیسہ پاکستان لائے اس کے لیے حوالہ اور ہنڈی استعمال کے ذرائع استعمال کیے گئے اور آخر میں پرویزمشرف کی کالا دھن، سفید کرنے کی سکیم استعمال کی گئی، جو کہ عمران خان کے نزدیک تمام قانونی ذرائع تھے۔
ان تمام باتوں کے بعد جب یہ مقدمہ عدالت میں پیش ہوا تو عمران خان نے کہا کہ یہ کمپنی میری تھی اور میں نے یہ کمپنی ٹیکس بچانے کے لیے بنائی کیونکہ یہ میری بہنوں کی کمپنی تھی اور اس سے میرا کوئی تعلق نہیں تھا۔
تو اس بات کو بنیاد بنا کر عدالت نے عمران خان کو نااہل قرار نہ دیا کہ یہ کمپنی عمران خان کی بہنوں کی تھی اور اس سے عمران خان کا کوئی تعلق نہیں تھا۔
۔
بس اتنی سی بات تھی۔
اتوار، 5 نومبر، 2017
حقیقت
رات پورے چاند کی تھی
ہوا بھی کچھ سرد تھی
اور تُو مرے ساتھ تھی
اسی عالمِ شوق میں، دیدِ فلک کے ذوق میں
میں بہت دُور نکل گیا
اور "اپنی سمت" چل پڑا
دُور زمیں پہ جو چراغ تھے
مری آرزو کے وہ، دلفریب باغ تھے
اور جب!
آخرِ شب کے چاند نے، مسکرا کہ یوں کہا
ہے دعا یہ دل کی
ساتھ ساتھ رہو سدا
تو اک نوا سنائی دی
اور اس تلخیٔ ایام کی اک جھلک دکھائی دی
ہر طرف ہے کِشت و خوں
زندگی جاں بلب اور چار سُو درد کا فسوں
ہے حاصلِ الفت آزردگی
اور اک مستقل شکستگی
یہ بات کچھ عجیب ہے
جو چاہ طلب ہے وہ غم سے قریب ہے
اور غم کی بات نہ کرو
غم ہے غمِ دوستی
غم ہے غمِ زندگی
غم، غمِ یار بھی ہے
غم، روزگار بھی ہے
اور جب حُسن ہو غمزدہ
تو غم شاہکار بھی ہے
اس نوائے بےصدا نے مجھے خواب سے جگا دیا
رخ زندگی کا نیا اک دکھا دیا
میری آنکھ جو کُھلی تو دیکھا کچھ اور ہی
میں دشت کے اِس پار تھا
تُو ساگر کی اُس اور تھی
ہفتہ، 29 جولائی، 2017
پشیمان آئینہ فروش
(ایک نظم جو امتنان قاضی کے بارے میں نہیں لکھی گئی)
کبھی کسی بازار میں کہیں
آئینے بیچ رہا تھا کوئی قاضی
کسی نابکار نے یہ سوال کیا
بہ صد تکریم و عجز و وقار
حضور نے یہ پیشہ کیونکر اختیار کیا؟
کیا حضور کے ذمہ تمام فرائض ادا ہو چکے؟
مجرم سزا پا چکے، مظلوم جزا پا چکے؟
عرق آلود پیشانی کے ساتھ بہ پشیمانی
آئینہ فروش کچھ یوں گویا ہوا
کچھ ایسا انصاف کیا ہے اک فیصلے میں
کسی اور کا تو کیا کہوں
آئینے سے بھی نظر نہیں ملا پایا ہوں میں
سو گھر کے تمام آئینے بازار میں لے آیا ہوں میں
منگل، 30 مئی، 2017
آخری خواہش
اگر میں لاپتہ ہو جاؤں
تو میرے لیے مت تکلیف اٹھانا
نہ کوئی کمپین چلانا، نہ کوئی ٹرینڈ بنانا
نہ کوئی احتجاج کرنا، نہ موم بتیاں جلانا
بس چند دعائیہ فقرے ادا کر کے
کسی بھی جگہ پر کچھ پھول بکھیر دینا
اور اگر میں نہ لوٹوں تو
تو بس یہ یاد رکھنا
تمہارے جمہوری مستقبل کے لیے
میں نے اپنا آج قربان کر دیا ہے
بدھ، 16 نومبر، 2016
Entropy
ترتیب کا واہمہ تقدیر سے سوا ہے
اک چیز اٹھانے سے ترتیب بدل جاتی ہے
اک نئی ترتیب نمو پاتی ہے
اس چیز کو وہیں لوٹانے سے
پرانی ترتیب بحال نہیں ہوتی
ہاں! نئی ترتیب ضرور بےترتیب ہو جاتی ہے
چاند ستارے گھوم گھما کر پھر لوٹ آتے ہیں
اس بے ترتیبی میں زمیں بھی چکراتی جاتی ہے
کہکشاں مسافر ہے، کائنات مسافر ہے
نقطے سے آغاز ہوا، انتہا لامتناہی ہے
یہ مفروضہ بھی راسخ ہے کہ
انتہا کچھ بھی نہیں
لوٹ کے آغاز کو آنا ہے
کیا پھر سے کن فیکون کہلوانا ہے؟
اتوار، 6 نومبر، 2016
محب
بہت سادہ، بہت عمیق جیسے چھوٹی بحر میں غالب کی لائن
فارہہ، صوفیہ، نہ شہناز
زیدی، ثروؔت، جوؔن کی سوچ سے بڑھ کر پرخیال
مستعار لے جس سے گلزاؔر اپنے تمام استعارے
ساؔغر کی تلخی کے زہر سے، ساؔحر کی لفاظی کے سِحر سے پرے
بدر کی نمکینی، محسن کی شیرینی سے تھوڑا ہٹ کے
بابر کے عشرے کی طرح ترو تازہ
اکھیوں مں صبح صادق سی چمک، گالوں پہ شفق شام سی
دید میں حسنِ تام ہے وہ نہ شنید میں عام سی
بدھ، 5 اکتوبر، 2016
نتیجہ
پیرا سائیکالوجی (Parapsychology) اور مابعد الطبعیات (Metaphysics) عمومی طور پر ہم عام لوگوں کے لیے فقط قصے کہانیوں کی باتیں ہیں۔ کچھ لوگ ان پر اعتقاد بھی رکھتے ہیں، اور ایسے لوگ آج کل کے دور میں عموماً جعلی اور ڈبہ پیروں کے چنگل میں جا پھنستے ہیں۔ لیکن یہ صرف ماورائی اور قصے کہانیوں کی بات نہیں ہیں، ان میں حقیقت اور سچائی موجود ہے۔ جو لوگ پیراسائیکالوجی اور مابعد الطبعیات پر عبور حاصل کر لیتے ہیں، وہ عام لوگوں میں کھلتے نہیں ہیں، کیونکہ ان کی دنیا ہی الگ ہو جاتی ہے۔
یہ واقعہ جو میں بیان کرنے لگا ہوں، اس کی بنیاد بھی ایک خاتون کی پیرا سائیکالوجی اور مابعد الطبعیات میں دلچسسپی، محنت اور اس کے بعد ان کو ملنے والے منفرد تجربے پر ہے۔
کچھ سال قبل ایک امریکی خاتون کو ان علوم میں دلچسپی پیدا ہوئی، ابتدائی طور پر چند کتب پڑھنے کے بعد اس نے خود سے ان علوم کو سیکھنے کی تگ و دو شروع کر دی۔ اس نے انٹرنیٹ پر چند ایسی ویب سائیٹس کی ممبرشپ بھی حاصل کی، جہاں اس کے ہم شوق افراد موجود تھے، وہاں اس کی ملاقات ایک نوجوان سے ہوئی، جو ان علوم پر کافی دسترس حاصل کر چکا تھا۔ دونوں کے درمیان پیغامات کا تبادلہ شروع ہوا اور قربت بڑھتی گئی۔
چند ایک ملاقاتوں کے بعد نوجوان نے خاتون کیتھی کو بتایا کہ اگر ان علوم پر واقعی دسترس حاصل کرنی ہے تو ہمیں ہمالیہ کی ترائی میں جانا پڑے گا، وہاں دنیا کے سب سے کامل ماہرین موجود ہیں، جو ان علوم کی خاطر دنیا تیاگ چکے ہیں۔ دونوں نے فیصلہ کیا کہ وہاں سے واپسی کے بعد وہ شادی کے بندھن میں بھی بندھ جائیں گے۔
سفری تیاریوں کے بعد یہ لوگ ہمالیہ کی ترائی میں پہنچ گئے اور کسی استاد کی تلاش شروع کر دی۔ کچھ عطائیوں کے ہاتھوں بیوقوف بننے کے بعد سچی لگن کے سبب آخرکار ان کو ایک ایسی شخصیت مل گئی جسے ان علوم میں جامعہ کا درجہ حاصل تھا۔ اس شخص نے ان کی تربیت کی حامی بھری اور ان کی تعلیم شروع ہو گئی۔ ہوا یوں کہ جیسے جیسے تربیت کٹھن ہوتی گئی، لڑکے جارج کا دل اٹھتا گیا مگر کیتھی کے اندر مزید علم حاصل کرنے کی لگن بڑھتی گئی۔
جارج نے کئی بار کیتھی سے کہا کہ ہم نے کافی کچھ سیکھ لیا ہے، اب ہمیں واپس امریکہ چلنا چاہیے مگر کیتھی ہمیشہ انکار کر دیتی۔ آخر ایک وقت ایسا آ گیا کہ جارج نے کیتھی سے صاف کہہ دیا کہ وہ تو سہولیات سے عاری اس علاقے سے تنگ آ گیا ہے اور واپس امریکہ جا رہا ہے۔ اگر کیتھی تین ماہ کے اندر واپس نہ آئی تو وہ کسی اور سے شادی کر لے گا۔ کیتھی نے کہا کہ وہ کوشش کرے گی لیکن وعدہ نہیں کر سکتی اور اگر وہ تین ماہ میں واپس نہ پہنچی تو جارج کسی سے بھی شادی کرنے کو آزاد ہو گا۔
جارج واپس چلا گیا اور کیتھی دوبارہ تربیت میں ڈوب گئی۔ تین ماہ گزر گئے اور کیتھی کو احساس بھی نہ ہوا۔ وہ تربیت اور مشق میں اتنا غرق ہوئی کہ نہ جانے کب اس نے خیال خوانی یعنی ٹیلی پیتھی پر بھی عبور حاصل کر لیا۔ جب اس کے استاد کو پتہ چلا تو اس نے کیتھی کو خبردار کیا کہ اب وہ اس دائرے میں داخل ہو چکی ہے جو انتہائی خطرناک ہے، کیونکہ اس کی اس صلاحیت کا حکومت اور مجرم دونوں فائدہ اٹھانے کی کوشش کریں گے۔ کیتھی نے فیصلہ کیا کہ وہ اپنی اس صلاحیت کا کبھی استعمال ہی نہیں کرے گی، مگر اپنی مشقیں جاری رکھے گی۔
استاد کے مشورے سے مزید سخت مشقوں کے لیے کیتھی ہمالیہ کے ایک برفانی غار میں منتقل ہو گئی اور اس نے آگ پر پکا ہوا کھانا بھی چھوڑ دیا۔ اب اس کا گزارہ فقط کچی سبزیوں، پھلوں اور دودھ پر تھا۔
مشقوں کے دوران کیتھی کو یہ احساس ہوا کہ ہم جو کچھ سوچتے ہیں، وہ سوچ مقناطیسی کشش کی طرح اپنا ایک دائرہ بناتی ہے، جس سے اس کے اردگرد بیٹھے لوگ متاثر ہوتے ہیں، اگرچہ اس سوچ کو الفاظ کی شکل نہ بھی دی جائے۔ کیتھی نے سوچا کہ جب ہماری سوچ اپنا اثر رکھتی ہے تو اس کے ردعمل میں بھی کوئی سوچ پیدا ہوتی ہو گی، کیوں نہ کوئی ایسا طریقہ نکالا جائے کہ ہماری سوچ کے ردعمل میں جو سوچ پیدا ہو، وہ خودبخود پہلے سوچنے والے فرد کے دماغ تک اسی مقناطیسی سگنل کے ذریعے پہنچ جائے۔
مروجہ مشقوں اور تربیت میں کیتھی کو اس کا کوئی حل نہ ملا تو کیتھی نے خود سے کچھ مشقیں شروع کر دیں، اس نے اس دوران خیال خوانی کے زریعے جارج کا حال بھی پتہ کیا تھا۔ جارج نے ابھی تک شادی نہیں کی تھی اور کیتھی کا منتظر تھا۔ اسے یقین تھا کہ اس کی سچی محبت ایک نہ ایک دن کیتھی کو ضرور واپس لائے گی۔ چھ مہینے کی مسلسل مشقوں کے بعد کیتھی اس قابل ہو گئی کہ اپنی سوچ کے ردعمل میں پیدا ہونے والی سوچ کو مخصوص کر لے مگر یہ ردعمل ابھی تک الفاظ کی صورت میں اس کے ذہن میں ابھر نہ رہا تھا۔ کیتھی نے مشقیں مزید سخت کر دیں۔ ایک دن نو گھنٹے کی مسلسل مشقوں کے بعد، کیتھی کے دماغ میں سوچ پیدا ہوئی کہ آج مجھے آگ پر پکا ہوا کچھ کھانا چاہیے، لیکن کیتھی کی خوشی کی انتہا نہ رہی جب اس کو اپنی تپسیا کی کامیابی کا یقین ملا، کیتھی کی سوچ کے جواب میں فوراً ہی کیتھی کے دماغ نے ایک سگنل کیچ کر کے اسے الفاظ کی شکل دی۔ وہ الفاظ کچھ یوں تھے:
"Wajid Rasool Malik Likes This."۔