حُسنِ ناتراشیدہ!
میری معمولی سی خواہش پوری کر دے
تُو میرے ساتھ اجنتا و ایلورا کی سیر کو چل
میں فقط اِک بار یہ دیکھنا چاہتا ہوں
وہ گوتم، وہ جاتک، وہ دیویوں کے مجسمے
جو فن کی معراج ہیں
جن کا ایک ایک عضو ہنرِ تراشیدگی کا اوجِ کمال ہے
جن کی سطوت کا احاطہ آج بھی ممکن نہیں
تیرے فطری حٌسنِ ناتراشیدہ کو دیکھتے ہی
تیرے حُسن کا کلمہ پڑھتے ہوئے
سجدوں میں گِر جاتے ہیں۔