مجھے اپنا مذاق اڑانا چاہیے
بہت میں آگئی ہے مجھ میں
کچھ عرصہ تو ساون بھادوں چلے
کوئی بدلی چھا گئی ہے مجھ میں
بہت چلاتا ہوں میں شب و روز
بہت خامشی چھا گئی ہے مجھ میں
اس الم کو چنے گا کرہء فال؟
بے یقینی سی آ گئی ہے مجھ میں
تعلق توڑوں تو توڑ دیتا ہوں
کیسی انتہا آ گئی ہے مجھ میں
محکم ہوں اپنی فنا کے امر پر
یہ کیسی بقا آگئی ہے مجھ میں
غزل لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
غزل لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
جمعہ، 10 جنوری، 2014
مجھے اپنا مذاق اڑانا چاہیے
سبسکرائب کریں در:
اشاعتیں (Atom)