‏مختصر کہانی لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
‏مختصر کہانی لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

بدھ، 13 مئی، 2015

کیڑا ۔ مختصر کہانی

ایک نوجوان ایک بزرگ کے پاس گیا اور عرض کی "بہت پریشان رہتا ہوں۔ زندگی سے اور تمام رشتے ناطوں سے کٹ گیا ہوں۔ طبیعت بیزار رہتی ہے۔ عقل، فہم اور دانش کی باتیں زہر لگتی ہیں۔ کوئی سنجیدہ و متین گفتگو کرے، اس کو کاٹ کھانے کو جی چاہتا ہے۔ زبان پر ہر وقت طعن و دُشنام و یاوہ گوئی و مغلظات ہیں۔ دعا کیجیے۔"
یہ سب سن کر بزرگ نے آنکھیں بند کیں، زیرِ لب کچھ پڑھا، ہلکا سے مسکرائے اور آنکھیں کھول کر نرمی سے اُسے مخاطب کر کے بولے۔ "بیٹا! آپ کسی اچھے سرجن کے پاس جا کر آپریشن کرواؤ، آپ کو تحریکِ انصاف کا کیڑا ہے۔"

منگل، 17 مارچ، 2015

چوہڑا

صبح اٹھتے ہی اس نے ناشتہ کیا، سفید کلف والا سُوٹ پہنا، سنہری گھڑی باندھی، اوپری دو بٹن کھولے تاکہ سونے کی زنجیر نظر آتی رہے۔ چھوٹے بھائی کو آواز دے کر پوچھا کہ وہ بھی تیار ہے یا نہیں اور گلی میں نکل آیا۔ کیا دیکھا کہ رات بیوی نے جو کوڑا باہر پھینکا تھا ابھی تک وہیں دروازے کے سامنے پڑا ہے اور کچھ دُور جمعدار نالی صاف کر رہا ہے۔ "ادھر آ اوئے چوہڑے" آواز دی۔ جمعدار آیا تو تھپڑ مار کر بولا، "حرامزادے، یہ تیرا باپ اٹھائے گا؟ یہ ساری چوہڑوں والی اکڑ نکال دیتا پر ابھی میری فلائٹ ہے۔" دس روپے کا نوٹ چوہڑے کے منہ پر مارا، موبائل نکال کر کال ملائی، "ہیلو جینی، یس دس از می۔ یس یس، آئی ول بی بیک ٹوڈے۔ پلیز انفارم مسٹر جیکسن ہز واش روم کلینر ول بھی ان نیویارک ٹوڈے۔"