اے عرشِ معلٰی پہ متمکن رگِ جاں سے قریب تر خدا
جسموں کے جہنم کے الاؤ میں جلتی روحوں سے
وعدہء الست دوبارہ لے لے
نفس کی بادِ صرصر کے مسموم تھپیڑے
جسم کو چھید کر روح سے پار ہو رہے ہیں
جو گُل کھلائے تھے کسی نے کسی آگ میں کبھی
ایک ایک کر کے سبھی انگار ہو رہے ہیں
سانپ اژدہا بن چکا اور آدم کے بہکاوے میں ہے
بازارِ مصر میں ہاروت و ماروت نیلام ہو رہے ہیں
اے جبار و قہار اے رحیم و کریم تر خدا
وعدہء الست دوبارہ لے لے
شائد کہ سزا یافتہ ارواح کے لیے
اس بار عہد شکنی ممکن نہ ہو
** الست بربکم: وہ اقرار جو خالق کائنات نے تمام ارواح کو جمع کرکے لیا تها کہ کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں؟ جس پر تمام ارواح نے اقرار کیا تها کہ بےشک اے اللہ آپ ہمارے رب ہیں۔